حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عاشقان اہلِ بیت (ع) استنبول شہر کی «زینبیہ مسجد اور ثقافتی مرکز» میں جمع ہوئے اور حجتالاسلام والمسلمین شیخ صلاحالدین اوزگوندوز، سید سجاد حسینی اور محمد نور دوغان کے خطابات سُنے۔
زینبیہ اتحاد علمائے جعفری کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ حجتالاسلام والمسلمین سید سجاد حسینی نے اپنے خطاب میں کہا: اگرچہ بنیامیہ کی حکومت ختم ہو چکی ہے، مگر اس کے آثار اور نتائج ابھی تک مٹے نہیں ہیں۔ جب تک یہ آثار ہمارے ذہن اور فکر سے نہیں مٹائے جاتے، نہ تو ہم قرآن کو صحیح طور پر سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح پہچان سکتے ہیں جیسا کہ انہیں پہچاننا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: عاشورا اور کربلا ہمیں قرآن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحیح تفہیم کا ایک عظیم موقع فراہم کرتے ہیں۔ انشاءاللہ خداوند متعال ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو اس موقع سے بہترین طریقے سے فائدہ اٹھائیں۔

ان کے بعد استنبول یونیورسٹی کی شعبہ ترکی زبان و ادبیات علمی کمیٹی کے سابق رکن پروفیسر محمد نور دوغان نے اپنے خطاب میں کہا: ہم نے امریکہ، اسرائیل اور منافقین کو نشانہ بنانے کی بجائے، اگر شیعہ ہیں تو اہلِ سنت کو اور اگر سنی ہیں تو شیعوں کو نشانہ بنا لیا ہے۔ اہلِ سنت کی دنیا میں کچھ لوگ امریکہ اور انگلینڈ کے پروپیگنڈوں سے متاثر ہو کر شیعہ دنیا کو تکفیری نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کے مقابلے میں بعض ان جنگی جریانوں میں سے جنہیں "انگریزی تشیع" کہا جاتا ہے، ان کی جانب سے رات دن اہلِ سنت کے محترم شخصیات؛ جیسے حضرت عمر، ابوبکر اور عائشہ کی توہین کی جاتی ہے اور یہ رویہ شیعہ اور سنی برادری اور درحقیقت اسلامی اخوت کو تباہ کر رہا ہے۔
حجتالاسلام والمسلمین شیخ صلاحالدین اوزگوندوز نے اپنے خطاب میں کہا: خلیفہ دوم فرماتے ہیں: "جن لوگوں نے نعمتِ اسلام کو کفر میں بدل دیا، وہ بنیمغیرہ اور بنیامیہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دو قبیلوں سے سب سے زیادہ ناخوش تھے اور اسی ناراضگی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا: یہ بات خود خلیفہ دوم نے بیان کی ہے۔ اب اگر کوئی شخص اہلِ سنت کے نام پر کہے: "میں یزید کا حامی ہوں"، تو وہ سنی نہیں ہے بلکہ ایک نفوذی عنصر ہے۔ اسی طرح جو لوگ تشیع کے نام پر اہلِ سنت، صحابہ یا اہلِ سنت کی محترم شخصیات کی توہین کرتے ہیں، وہ بھی شیعہ نہیں ہیں۔ وہ بھی نفوذی عناصر ہیں؛ انگلینڈ، اسرائیل یا امریکہ کے کارندے ہیں۔ جو لوگ سنی اور شیعہ کے ذریعے ہمیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔ میں ان لوگوں سے جو بنیامیہ کا دفاع کرتے ہیں، پوچھتا ہوں: کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی شخص جو خود کو سنی کہلائے، حضرت عمر سے اختلاف کرے؟ اگر آپ سنی ہیں تو حضرت عمر صراحتاً فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) کا ان دو قبیلوں کے بارے میں یہ موقف تھا اور ان لوگوں نے نعمتِ اسلام کو کفر میں بدل دیا؛ تو پھر آپ ان کا دفاع کیسے کرتے ہیں؟ ترکی کی قوم حسینی ہے اور آپ کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ خدایا! ہمیں حسینی زندہ رکھ، حسینی مرنا نصیب فرما اور حسینی محشور فرما۔
قابل ذکر ہے کہ خطابات کے اختتام پر، عاشقان اہلِ بیت (ع) نے مداح اہلِ بیت جناب فرشاد ہندانی کی مرثیہ خوانی پر خوب گریہ کیا۔










آپ کا تبصرہ